نئی دہلی،27؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) دہلی میں جاری کسانوں کے احتجاج کے درمیان شیوسینا نے یو پی اے صدر کی تبدیلی کا مطالبہ کرکے سیاست میں ہلچل مچادی ہے۔کانگریس کے قدآور لیڈر اور مہاراشٹرا کے سابق وزیراعلیٰ اشوک چوہان نے پلٹ وارکرتے ہوئے کہاہے کہ یوپی اے سے باہر کی پارٹی کو صلاح دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی بہتر طریقہ سے قیادت کررہی ہیں،ان پر تمام اپوزیشن کا اتفاق بھی ہے۔واضح رہے کہ شیوسینا کے ترجمان سامناکے ایک اداریے میں شیو سینانے کہاہے کہ یو پی اے کی کمان شرد پوار کے حوالے کی جانی چاہیے۔ فی الحال سونیا گاندھی یو پی اے کی چیئرپرسن ہیں۔ کچھ دن پہلے سونیا گاندھی نے مہاراشٹرا کے وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے کو ایک خط لکھا تھا جس میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ شیڈیول ذاتوں اور طبقات کے لیے اسکیموں کونافذکریں۔
سامناکے ایک اداریہ میں یہ لکھا گیا ہے کہ سونیاگاندھی نے اب تک یو پی اے صدر کا کردار ادا کیا ہے، لیکن اب اس میں تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ ہمیں کسانوں کی حمایت کے لیے آگے آناہوگا۔اداریہ میں کہا گیا ہے کہ حزب اختلاف کی بہت سی جماعتیں ہیں جو یو پی اے میں شامل نہیں ہیں۔ ان جماعتوں کو ساتھ لاناہوگا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ کانگریس کا علاحدہ صدر کون ہوگا۔ راہل گاندھی کسانوں کے ساتھ کھڑے ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ کسی چیز کی کمی ہے۔ ایسی صورتحال میں، شرد پوار جیسے مشترکہ قائد کو آگے لانا ہوگا۔سامنامیں لکھا گیا تھا کہ اپوزیشن نے جس طرح کی حکمت عملی اپنائی ہے وہ مودی اور شاہ کے خلاف غیر مؤثر ہے۔ سونیا گاندھی کی حمایت کرنے والے موتی لال ووہرا اور احمد پٹیل جیسے لیڈر اب نہیں ہیں۔ اس لیے پوار کو آگے لانا ہوگا۔